دامانِ رحمت مع منزل

0 تبصرے


تالیف:حضرتِ اقدس مولانا قاضی محمدزاہدالحسینی رحمتہ اللہ علیہ ( خلیفہ مجاز حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ )

مکمل کتاب یہاں دستیاب ہے

سازشِ قتلِ حسین، پس منظر، پیش منظر

0 تبصرے

خطاب: جانشینِ امیرِ شریعت، امامِ اہلِ سنت سید ابو معاویہ ابوذر بخاری قدس سرہٗ ضبطِ تحریر وترتیب: ڈاکٹر عبد القہارقاسمی (لاہور)


’’آپ پڑھیے ابنِ کثیر، ابنِ جریر کو! آپ کی آنکھیں کھلیں گی، میں ایسے نہیں کہہ رہا، میں نے ۱۹۴۸ء سے لے کر ۱۹۶۲ء تک نہ شہادتِ حسین بیان کی ہے، نہ حضرت علیؓ اور حسنؓ وحسینؓ کی مکمل سیرت بیان کی ہے۔ جب تک پڑھ نہیں لیا‘زَبان نہیں کھولی۔ اب بھی دعویٰ نہیں کہ جو میں سمجھا ہوں سب کچھ صحیح ہے لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں میں طالب علم ہوں اس موضوع کا‘ الحمدللہ! ہر آدمی مجھے اس مسئلے میں نہ روک سکتا ہے، نہ خاموش کرا سکتا ہے، نہ میں ہر ایک آدمی کو حجت سمجھتا ہوں۔ جس کا جی چاہے بات کر لے۔ تقریباً اٹھارہ برس میں نے صرف اس موضوع کو پڑھنے اور سمجھنے میں گزارے ہیں۔ شہادت حسینؓ میری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ صحابہؓ موجود ہیں اور حسینؓ کیوں ذبح ہو گئے؟۔ صحابہ موجود ہیں عثمانؓ کیسے قتل ہو گئے؟ گھر میں لٹا کر بکرے کی طرح ذبح کردیا گیا اور یہ نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کوئی مدد نہیں! ایک آدمی پاس نہیں پھٹکا۔ اس پر اگر غور نہیں کریں گے تو سمجھ میں کیسے آئے گا؟ پس منظر سمجھنے کے لیے بڑی دور جانا پڑا۔ جنگِ جمل اور صفّین، قتلِ عثمانؓ، خلافتِ علیؓ کو سمجھا تو قتلِ عثمانؓ و حسینؓ خود بخود سمجھ میں آگئے۔ اب بھی کہتا ہوں کہ قتلِ حسینؓ کو سمجھنا ہے تو قتلِ عثمانؓ کو سمجھو اور اگر قتلِ عثمانؓ کو سمجھنا ہے تو ابولولو فیروز، ایرانی بدمعاش، اور مجوسی لفنگا جس نے پناہ کے نام پر مسجدِ نبوی کے پڑوس میں سازش کا مرکز بنایا، جس نے ہرمزان کو ساتھ ملایا، جفینہ کو ساتھ ملایا، سازشی ٹولہ اکٹھا ہوا۔ حضرت علیؓ وعباسؓ کے کہنے پر فاروقِ اعظمؓ نے ان کو مدینے میں پناہ دی تھی۔ انہوں نے اس پناہ سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ یہ سیاسی جرائم پیشہ ٹولہ تھا۔ اس نے وہی کچھ کیا جو ایران کے مجوسیوں کو کرنا چاہیے تھا۔ سازش ہوئی، دو دھارے نوکیلے خنجر سے عمرؓ کی انتڑیاں کٹیں، زخم مندمل نہ ہوسکا اور تیسرے دن انتقال ہوگیا۔ وہی سازش بڑھی، ابنِ سباء کے روپ میں آئی، عثمانؓ کی گردن اتری۔ فتنہ ختم نہیں ہوا۔ وہ سازش مزید آگے بڑھی۔ علیؓ کے سر مبارک پر ، معاویہؓ کے کولہے پر اور خارجہ بن حذیفہؓ کی گردن پر ایک ہی رات میں سحر کے وقت تلوار پڑی۔ علیؓ وخارجہؓ شہید ہوگئے معاویہؓ بچ گئے۔ یہی تلوار آگے چلی، اسی میں حسنؓ کو معزول ہونا پڑا۔ یہی سازش آگے بڑھی‘ حسینؓ اور ان کے بچوں کے لاشے کربلا کے میدان میں تڑپے ہیں۔ سازش یہود اور مجوس کی ہے، صحابہؓ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔جب تک سازش کی ابتدا سے نہیں چلو گے‘ سراغ نہیں ملے گا کہ حسینؓ کیوں ذبح ہوگئے؟ مذاق ہے کوئی؟ حد ہوگئی، پوچھنے والا کوئی نہیں! ہم بھی سوچتے ہیں آخر۔ ہمارے باپ کو جیل میں روٹیاں پہنچانے والے موجود تھے، حسینؓ کو پانی کا گلاس دینے والا کوئی نہیں تھا؟‘‘

اقتباسِ خطاب: سالانہ جلسہ جامعہ رشیدیہ ساہی وال

زیرِ صدارت:شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ رائے پوری قدس سرہٗ

۲۵؍ دسمبر ۱۹۸۲ء

آپ کے مسائل اور انکا حل از مولانا یوسف لدھیانوی شھید رحمتہ اللہ علیہ

1 تبصرے

ایمان کی حقیقت

کاروانِ ایمان و عزیمت

0 تبصرے

کاروانِ ایمان و عزیمت تالیف سیّد ابوالحسن علی ندوی

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز

0 تبصرے

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز

الارشاد مئی جون 1998

0 تبصرے

الارشاد مئی جون 1998 خانقاہ مدنی اٹک کا ترجمان



مزید پڑھیں

خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر ایک طائرانہ نظر

0 تبصرے

خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر ایک طائرانہ نظر
خلیفۂ راشد، امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تاریخ اسلام کا مثالی دور تھا، سید نا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کو دین دنیا کی فلاح وکامرانی کے اعتبار سے جو جامعیت عطا ہوئی بعد والوں میں سے کسی کے حصے میں نہ آسکی۔ یوں سمجھئے کہ آپ کے دور میں اسلام اپنی قوت وسطوت، دبدبہ اور عظمت ورفعت میں بلند یوں کے انتہائی عروج پر تھا۔ ذیل میں امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت پر ایک طائرانہ نظر پیشِ خدمت ہے۔ ۔

علاّمہ اقبال اور فتنہ قادیانیت

0 تبصرے

غامدی مذہب کیا ہے ؟

0 تبصرے

جاوید احمد غامدی کے گمراہ کن عقائد و نظریات کا علمی جائزہ پروفیسر مولانا محمد رفیق کے قلم سےمزید پڑھیں

المامون

0 تبصرے

المامون
AL Mamoon by Allamah Shibli Nomani (r.a)

سیرتِ نعمان

0 تبصرے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حضورسے محبت

0 تبصرے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی جاہلیت کے دور میں مسلمانوں کے سخت مخالف تھے ، اور ان کا اسلام لانا اسلام کی عظیم نصرت تھی ․ اور آپ کا اسلام لانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء کی قبولیت کا نتیجہ تھا،جس میں آپ نے فرمایا :
”اللّٰھم أعز الاسلام بأحب العمرین إلیک : عمرو بن ھشام ۔ ھو ابوجھل ۔ أو عمر بن الخطاب“
ترجمہ: اے اللہ عمرین میں سے جو آپ کو زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت بخش : عمرو بن ھشام - ابوجھل - یا عمر بن الخطاب “․
اور جب سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے ،مسلمان اپنے آپ کو طاقتور محسوس کرنے لگے ․ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان کو لے کر بیت اللہ میں تشریف لے گئے اور سب نے طواف کیا ، اور کوئی ان کو خوف زدہ نہ کر سکتا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ نے اپنی جان اور ہر قیمتی چیز کو نبی کریم صلی اللہ ولیہ و سلم پر قربان کر دیا ․ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کو اپنے نفس کی محبت سے بھی زیادہ ثابت کیا ، جیسا کہ ان کی گفتگو صحیح بخاری میں گزر چکی ہے ۔
اور ان کی اس شدید محبت کا نتیجہ تھا کہ ان کی اکثر رائے وحی کے موافق ہوتی تھی ․ ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
” إن الله جعل الحق علی لسان عمرو قلبہ“․
ترجمہ:۔”بیشک اللہ تعالی نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کیا ہے ۔“
نیز حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ : جب بھی مسلمانوں کو کوئی معاملہ در پیش ہوا اور انہوں نے اس میں اپنی رائے دی ہو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی رائے دی ہو تو حضرت عمر کی رائے کے مطابق قرآن اترا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی محبت کے واقعات میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عمرہ ادا کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا :
”لا تنسنا یا اُخَیّ من دعائک ،،
ترجمہ:۔”میرے پیارے بھائی! مجھے اپنی دعامیں نہیں بھلانا ۔“
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : یہ ایسی بات ہے کہ اس کے بدلے اگر مجھے پوری دنیا مل جائے تو مجھے اتنی خوشی نہ ہوتی یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمانا : ”یا اُخَیّ “ اے میرے پیارے بھائی ! جتنی خوشی مجھے اس بات سے ہوئی ہے ۔
نیز صحیح حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول وارد ہوا ہے کہ : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایک چٹائی پر تشریف فرماتھے ․ تو میں بیٹھ گیا، آپ ازارباندھے تھے، آپ کے جسم مبارک پر دوسرا کپڑا نہ تھا ، اس چٹائی کے نشانات آپ کے جسم مبارک پر ظاہر تھے ․ دیکھتا کیا ہوں کہ کمرہ میں ایک طرف ایک صاع کے قریب جو کے دانے پڑے ہیں ․ دوسرے کونے میں چمڑا پکانے کے چھلکے ․ ایک کچا چمڑا لٹکا ہوا ، یہ دیکھ کر میری آنکھیں بہہ پڑیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! کیوں روتے ہو ؟میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں کیوں نہ رووٴں ، حال یہ ہے کہ اس چٹائی نے آپ کے جسم مبارک پر نشانات بنا دیئے ہیں ․ اور کمرہ میں آپ کی کل پونجی وہ ہے جو مجھے نظر آ رہی ہے ․ ادھر وہ قیصر و کسریٰ ہیں جو باغوں اور نہروں میں زندگی بسر کر رہے ہیں ، اور آپ اللہ کے نبی ہیں اور اس کے برگزیدہ ہیں اور یہ آپ کا پورا خزانہ ہے ! تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! کیا آپ کو یہ پسند نہیں کہ ہمارے لئے تو آخرت ہو اور ان کے لئے دنیا ؟ اور ایک دوسری صحیح حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں : یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی دنیا کی لذات دنیا میں ہی دے دی گئی ہیں ․
اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حضورصلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کی علامت آپ کے اہل بیت سے ان کی شدید محبت ہے ․ اور یہی تمام صحابہ کرام کی عام عادت مبارک تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کو بہت عطیات پیش کرتے تھے ، اور دوسرے لوگوں سے پہلے ان کو دیتے ․ اور حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو اپنے قریب رکھتے ۔
نیز آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے بہت قریب رکھتے ، اور اہم معاملات میں اس وقت تک فیصلہ نہ فرماتے جب تک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ نہ فرمالیتے ․ اور ان کا یہ حکیمانہ مقولہ مشہور ہے ” قضیة و لا اباحسن لہا “ ؟ اور ان کا یہ مقولہ : ” لولا علی لہلک عمر“ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتے ۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نہایت محبت اور اخلاص سے انہیں مشورہ دیتے ․ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت المقدس کے سفر پر روانہ ہوئے تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں تمام امور خلافت کا نائب مقرر فرمایا ۔
محترم قاری ! آپ ایسے لوگوں کی طرف توجہ نہ دیں جو تاریخ کو بگاڑتے ہیں ، اور حضرت عمراور دوسرے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی صاف ستھری سیرت کو تبدیل کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کے آخری دور تک مسلمان ایک جماعت تھے اور کسی مسلمان کے ذہن میں خلافت کے بارے میں کوئی اشکال نہیں تھا ، اور اس بارے میں بھی کوئی اشکال نہیں تھا کہ کون خلافت کا زیادہ حق دار ہے ۔
حضرت علی اور حضرت عمررضی اللہ عنہما کے درمیان خصوصی اخوّت اور محبت کے لئے یہی ذکر کردینا کافی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی گوشہٴ جگر صاحبزادی حضرت ام کلثوم کا نکاح کردیا تھا ، جو کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی تھیں ۔
نیز اس اخوّت اور محبت کے لئے یہ بھی ذکر کردینا کافی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک صاحبزادہ کا نام عمر، اور ایک کا ابوبکر اور ایک کا عثمان رکھا ، اور انسان اپنی اولاد کے لئے ان ناموں کاانتخاب کرتا ہے جو اسے سب سے زیادہ محبوب ہوں اور جن کو وہ اپنے لئے اقتداء کا بہترین نمونہ سمجھتا ہے ۔
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”قدیکون فی الأمم محدّثون أی ملہمون کمافی روایة ،فإن یکن فی أمّتی أحد فعُمربن الخطاب “
ترجمہ:۔”کبھی امتوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو الہام ہوتا ہے ، اور اگر میری امت میں کوئی ہے تو وہ عمر بن الخطاب ہیں ۔“
بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔میں نے جنت میں ایک سونے کا محل دیکھا ، تو میں نے پوچھا : یہ کس کا ہے ؟ تو مجھے جواب ملا کہ : یہ عمربن الخطاب کا ہے ، رضی اللہ عنہ و ارضاہ ۔
ماہنامہ بینات