خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر ایک طائرانہ نظر

خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر ایک طائرانہ نظر
خلیفۂ راشد، امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تاریخ اسلام کا مثالی دور تھا، سید نا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کو دین دنیا کی فلاح وکامرانی کے اعتبار سے جو جامعیت عطا ہوئی بعد والوں میں سے کسی کے حصے میں نہ آسکی۔ یوں سمجھئے کہ آپ کے دور میں اسلام اپنی قوت وسطوت، دبدبہ اور عظمت ورفعت میں بلند یوں کے انتہائی عروج پر تھا۔ ذیل میں امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت پر ایک طائرانہ نظر پیشِ خدمت ہے۔ ۔

رفاہِ عام کے کام:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی بہتری کے بہت سے کام کیے رعایا کے بچوں کی پرورش کے لیے وظائف سب سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقرر فرمائے تھے خلافت عثمانی میں بھی اسی طرح عمل ہوتا رہا مگر وقتاً فوقتاً اس میں کچھ تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ آپ نے بھی اپنے زمانہ میں اس چیز کو قائم رکھا البتہ اس میں یہ تبدیلی اور ترمیم فرمائی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں صرف شیر خوار بچے کا وظیفہ ہوتا تھا مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے شیر خواری کے بعد بھی جب تک بچہ بلوغت کے قریب نہ پہنچ جاتا وظیفہ جاری رہتا۔ علاوہ ازیں آپ نے متعدد سرکاری کارکن مقرر فرمائے جو روزانہ قریہ بقریہ اور شہر بہ شہر پھر کر اس بات کا پتہ چلاتے کہ کس کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے، وہ سرکاری ملازمین نہ صرف بچوں کی پیدائش کا پتہ چلاتے بلکہ یہاں تک خبر رکھتے کہ کسی کے ہاں کون مہمان آیا ہے اور کہاں سے آیا ہے ؟ اوران سب حالات سے حکومت کو روزانہ باخبر رکھتے۔

مساجد کی تعمیر:

آپ نے اپنے عہد خلافت میں کثرت سے نئی مساجد تعمیر کروائیں اور بہت سی پرانی مساجد کو از سر نو تعمیر کروایا، چنانچہ زیاد بن ابی سفیان رحمہ اللہ نے بصرہ کی جامع مسجد کو جو کہ بہت پرانی بھی تھی اور چھوٹی بھی، مسمار کرو کر از سر نو اینٹ اور چونے سے نہایت وسیع اور خوبصورت شکل میں بنوایا اور اس کی چھت ساکھو کی بنوائی۔ حضرت عبد الرحمن بن سمرہ نے بصرہ میں کابلی طرز کی ایک مسجد تعمیر کروائی مصر کی مساجد میں میناروں کا بالکل رواج نہ تھا، سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ نے تمام مساجد کے مینار تعمیر کرائے ۔ قبرص میں (جس کو خلافت عثمانی میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہی نے فتح کیا تھا) بہت سی مساجد تعمیر کروائیں گئیں۔ سیدنا عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے قیروان کی آبادی میں ایک بہت بڑی جامع مسجد تعمیر کروائی۔ مصر میں مسجدوں کے میناروں کارواج بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوا اور بصرہ مسجد میں بھی سب سے پہلے پتھر کے مینار بنوائے گئے۔

غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ :

مسلمان تو مسلمان آپ نے غیر مسلموں کے حقوق کی بھی حفاظت پوری طرح فرمائی، ان کے معاہدات اور جذبات کا پورا پورا احترام کیا اور ان کے جان و مال کی اچھے طریقے سے حفاظت فرمائی، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یوحنا کے گرجے کے پاس ایک مسجد بنائی گئی تھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں مسجد کو وسیع کرنے کے خیال سے گرجا کو بھی مسجد میں شامل کرنا چاہا لیکن عیسائی گرجا کی زمین دینے پر راضی نہ ہوئے، لہٰذا آپ نے مسجد کی وسعت کا ارادہ ترک فرما دیا اور زبردستی گرجا کو مسجد میں شامل نہ کیا تا کہ ان کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔

زراعت اور اس کے وسائل کی ترقی

آپ نے زراعت اور اس کے وسائل کی طرف بھی خاص توجہ فرمائی ، چنانچہ آپ نے زراعت کی ترقی کے لیے نہریں کھدوائیں جن سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایکڑ زمین سیراب ہوتی تھی جس سے ملک کی زراعت میں بہت ترقی ہوئی، چنانچہ مدینہ کے قرب وجوار میں نہر کظامہ، نہر ارزق اور نہر شہداء وغیرہ متعدد نہریں کھداوئیں۔ نہر معقل کو جو کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کھدوائی تھی دوبارہ کھدوا کر صاف کر وا دیا گیا۔ بخارا کے کوہستان سے بھی ایک نہر کھدوائی گئی۔ نہروں کی کھدائی کے علاوہ پہاڑوں کی گھاٹیوں کے گرد بند بندھوا کر بڑے بڑے تالاب (ڈیم ) بنوائے گئے جن میں موسم برسات میں پانی جمع ہو جاتا اور ضرورت کے وقت آبپاشی اور دیگر کاموں میں لایا جاتا۔ پانی کی اس فراوانی سے ملک کی زرعی حالت میں کافی حد تک ترقی ہوئی ، چنانچہ صرف مدینہ منورہ کے قرب وجوار میں نہروں سے ڈیڑھ لاکھ وسق کھجوریں اور ایک لاکھ وسق گندم پیدا ہوتی تھی۔

نئے شہروں کی تعمیر
پیداوار کی زیادتی سے ملکی آبادی میں بھی اضافہ ہوا جس سے اسلامی نو آبادیاں قائم کی گئیں ۔ کیونکہ زمین کے مزروعہ ہونے سے رہائشی زمین کم ہو گئی۔ چنانچہ ۴۳ھ میں انطاکیہ میں ایک نو آبادی قائم کی گئی۔ روڈس اور کئی دوسرے جزیروں میں بھی جہاں غیر مسلم آباد تھے اہل اسلام کو بسایا گیا۔ علاوہ ازیں کئی ویران شدہ شہروں کو دوبارہ آباد کیا گیا، جیسے شام کا ویران شدہ شہر مرعش، اس کے علاوہ کئی نئے سہر بھی آباد کیے گئے، جیسے افریقہ میں ایک نیا شہر قیروان بسایا گیا۔

نقل و حمل کا انتظام

آپ کے زمانہ میں نقل و حمل کا بھی خاطر خواہ انتظام تھا اور خصوصی طور پر ڈاک کے لیے ’’ البرید‘‘ کے نام سے ایک مستقل محکمہ بنایا گیا ۔ کیونکہ اس سے قبل ڈاک اور خبر رسانی کے لیے کوئی باقاعدہ محکمہ نہیں تھا۔ اس کا نظام یہ تھا کہ بارہ بارہ میل کے فاصلہ پر چوکیاں قائم کی گئیں جہاں تیز رفتار گھوڑے ہر وقت موجود رہتے تھے، علامت کے طور پر ان گھوڑوں کی دموں کو تھوڑا سا کاٹ دیا گیا تھا تا کہ گھوڑے کو دیکھتے ہیں لوگ سمجھ لیں کہ ڈاک جا رہی ہے، گھوڑوں کی گردنوں میں گھنٹیاں بندھی ہوئیں تھیں تا کہ چوکی پر پہنچنے سے قبل ہی چوکی کے ہرکارے کو پتہ چل جائے کہ ڈاک آرہی ہے، اس طرح سے سرکاری ہر کارے منزل بمنزل ڈاک اور خبروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لاتے اور لے جاتے۔

قضاء و عدالت

آپ کے دور حکومت میں نہ صرف ظاہری رفاہی کام کیے گئے بلکہ معنوی طور پر بھی رعایا کو آرام و آسائش بہم پہنچائی گئی، یعنی ظلم و جور میں رعایا کی داد رسی کی گئی، عدل و انصاف کو ہر ممکن طریقے سے قائم کیا گیا۔ آپ کو انصاف اور عدل کا اتنا اہتمام تھا کہ مسعودی جیسا شیعہ ذہن رکھنے والا مؤرخ بھی لکھتا ہے کہ ’’آپ دربار میں جانے سے قبل روزانہ مسجد میں جا کر کمزور، ناتواں اور نادار لا وارث بچوں تک کی شکایتیں سنتے اور ان کا تدارک کرتے، بلکہ اشراف و اعیان تک کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ جو لوگ کسی وجہ سے میرے پاس نہیں پہنچ سکتے ان کی ضروریات مجھ سے بیان کیا کریں۔‘‘ (مروجہ الذہب جلد ۲،ص ۷۱) سید امیر علی نے عوام کی شکایت سننے کے لیے مسجد میں جانا ظہر کے وقت لکھا ہے ۔‘‘ اس کا اثر یہ ہوا کہ مفلس اور تونگر، کمزور اور طاقتور اور چھوٹے بڑے سب کی ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہو گئیں اور آپ کو نہ کسی اندرونی خطرے کا اندیشہ رہا اور نہ بیرونی کا اور ملک کا نظام گذشتہ ۵ سالہ سیاسی بحران کے باوجود نہایت خوش اسلوبی سے چلنے لگا۔ عدلیہ کو بالکل آزاد رکھاگیا یہاں تک کہ ایک قاضی امیر المؤمنین کو بھی عدالت میں طلب کر سکتا تھا، قاضی حضرات کتاب و سنت کی روشنی میں اپنا کام کرتے تھے۔ اس دور کے قاضی ہر قسم کے غلط الزامات سے پاک، متقی، عالم اور مجتہد تھے اور حدود اللہ میں بڑے سے بڑے افسر سے بھی مرعوب نہیں ہوتے تھے، منصب قضا عموماً صحابہ کرام کے سپرد تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پہلے فضالہ بن عبید اللہ الانصاری کو اور ان کے بعد ابو ادریس الخولانی کو محکمہ قضاء کا انچارج مقرر فرمایا تھا۔

افواج

بری فوج کا انتظا م سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہی کے زمانہ سے بڑا مستحکم تھا لیکن آپ نے پھر بھی اس میں بہت سے اضافے کیے۔ فوجیوں کی تنخواہیں دگنی کردی گئیں اور ان کی ادائیگی میں خاص تاریخ کا تعین کردیا گیا۔ فوج دوحصوں میں تقیسم تھی، تنخواہ دار فوج اور رضاکار۔ لیکن آپ نے رضا کار فوج کو بھی باقاعدہ تنخواہ دار فوج میں منتقل کردیا۔ آپ کے عہد میں باقاعدہ فوج کی تعداد ۲لاکھ چالیس ہزار تھی۔

موسموں اور ملکوں کے اختلاف کی وجہ سے فوج دوحصے کردیے گئے تاکہ فوجی مہموں میں کوئی مزاحمت پیش نہ آئے۔(۱) شتائیہ(سرمائی فوج) (۲)صائفیہ(گرمائی فوج) علاوہ ازیں ایک ریزرو(Reserve)فوج کی تشکیل کی گئی، اس فوج کے سپہ سالار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خصوصی فوجی مشیر تھے۔ ریزرو فوج کو بھی دوحصوں میں تقسیم کیا گیا۔

(۱)برّی (۲) بحری

فوج میں زیادہ تر دوقبیلوں کے لوگ تھے یمنی اور قیسی۔ یمنیوں کو بحری ریزرو فورس میں اور قیسیوں کو بری ریزروفورس میں شامل کیا گیا بعد ازاں ان دونوں کو یکجا کردیا گیا۔ فوج کے اسلحہ میں بھی اضافہ کیا گیا اور منجنیق (ایک توپ جس میں پتھر استعمال ہوتا تھا) کا استعمال تو سب سے پہلے آپ ہی کی فوج نے کیا۔ چنانچہ کابل کے محاصرہ میں اسی منجنیق کے ذریعہ سنگ باری کرکے شہر پناہ کو مسمار کیا گیا۔ (ابن الاثیر ج ۳ ص۲۱۷)

اسلامی بحریہ

بحری فوج کی اگرچہ خلافت عثمانی میں آپ ہی نے تشکیل کی تھی لیکن اپنے در خلافت میں آپ نے اس میں بہت اضافہ کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور ہی میں پانچ سو جہازوں کے بیڑے کے ساتھ قبرص پر حملہ کیا گیا تھا لیکن اس زمانہ میں مسلمانوں کا بحری بیڑہ اس قدرطاقتور ہو چکا تھا کہ باز نطینی بیڑا بھی جو دنیا کا سب سے بڑا بیڑہ سمجھا جاتا تھا اس کے سامنے بالکل گرد تھا۔ چنانچہ روڈس اور ادڈے وغیرہ جزائر کی مہمات پر اسلامی بحریہ ۱۷۰۰ جنگی جہازوں پر مشتمل تھی۔

مسلمانوں نے بحریہ کا مرکز بحیرۂ روم کو ٹھہرایا۔ بحری فوج میں شامی، افریقی مسلمان شریک ہوئے، اسلامی بحری کشتیاں باز نطینی کشتیوں سے بڑی ہوا کرتیں لیکن رفتارمیں ان سے کم تھیں۔ ہر جنگی جہاز کا ایک قائد ہوتا تھا جسے ’’مقدم ‘‘ کہا جاتا تھا۔

جہاز سازی کے کارخانے

اسلامی بحریہ کی ترقی کے پیش نظر ملک کے ساحلی علاقوں میں جہاز سازی کے متعدد کارخانے قائم کیے گئے، پہلا کارخانہ ۵۴ھ میں مصر میں قائم ہوا۔ علامہ بلاذری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ

پہلاجہاز سازی کا کارخانہ ۵۴ھ میں مصرمیں قائم ہوا، بعد ازاں اردن میں ’’عکا‘‘ کے مقام پر ایک عظیم الشان کارخانہ قائم ہوا ملک کے تمام بڑھئی اورکاری گر جمع کرکے ان کو تمام ساحلی مقام پر بسایا گیا تاکہ ان کارخانوں کے لیے لیبر کوئی دقت نہ رہے‘‘۔

عبداللہ بن قیس الحارثی اور جنادہ بن امیہ امیر البحر ہونے کے علاوہ ان کارخانوں کے نگران بھی تھے۔

کمانڈر انچیف کا عہدہ
بحریہ میں اس سے قبل امیر البحر کا عہدہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ خلافت عثمانی میں بحری اور بری فوج کا سپہ سالار ایک ہی فرد ہوا کرتا تھا لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسلامی بحریہ کی ترقی کے پیش نظر بحریہ کے لیے امیر البحر کا الگ عہدہ قائم کیا، سب سے پہلے امیر البحر سیدنا عبد اللہ بن قیس الحارثی رحمہ اللہ مقرر ہوئے، آپ نے کم و بیش پچاس بحری لڑائیوں میں حصہ لیا تھا اور خوبی یہ ہے کہ ان میں ایک بھی مسلمان شہید نہیں ہوا تھا۔ سیدنا عبد اللہ بن قیس الحارثی رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کو امیر البحر مقرر کیا گیا، یہ خلافت عثمانی سے دور یزید تک برابر بحری لڑائیوں میں مصروف و مشغول رہے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت بحریلڑائیوں کے عروج کا زمانہ تھا، اس زمانہ میں جس قدر بحری لڑائیاں لڑی گئیں ان کی نظیر تاریخ کے اوراق میں بہت کم ملتی ہے۔

آپ کے عہد خلافت میں صوبوں کی آمدنی

آمدنی کی متذکرہ الصدر مدات سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو مملکت کے مختلف صوبوں سے مندرجہ ذیل آمدنی تھی۔
۔ عراق اور اس کے ملحقات ۶۵۵ملین درہم

۔ سواد اور اس کے ملحقات ۱۳۰ملین درہم

اہواز اور اس کے ملحقات ۴۰ملین درہم
یمامہ اور بحرین ۱۵ملین درہم
صوبہ فارس ۷۰ملین درہم
کوردجلہ ۱۰ملین درہم

۔ نہاوند۔ دینور اور ہمدان ۴۰ملین درہم

۔ رے اور اس کے ملحقات ۳۰ملین درہم

۔ حلوان ۳۰ملین درہم

موصل اور اس کے ملحقات ۴۵ملین درہم

۔ آذر بائیجان ۳۰ملین درہم

۔ مصر ۳ ملین درہم

۔ فلسطین ۴۵۰ہزار دینار

 اردن ۱۸۰ہزار دینار

۔ دمشق ۴۵۰ہزار دینار

۔ حمص ۳۵۰ہزار دینار

۔ الجزیرہ ۵۵ملین درہم
یمن ایک ملین دو لاکھ دینار
۔ قنسرین اور اس کے ملحقات ۴۵۰ ہزار دینار
علمی سر گرمیاں:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی جو قریش کا سردار اور علمی لحاظ سے ایک نہایت اچھا گھرانہ تھا۔ آپ کے والد ماجد سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے شروع ہی سے علمی لحاظ سے آپ کی نہایت اچھی تربیت کی ۔ چنانچہ ظہور اسلام کے وقت’’ احمد امین بک‘‘ کے بقول ۱۷ آدمی (فجر الاسلام ص ۱۴۱) اور زکی مبارک کے بیان کے مطابق ۲۰ افراد تھے جولکھنا پڑھنا جانتے تھے، ان میں ایک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ گویا کہ شروع ہی سے علمی مزاج میں آپ کی تربیت کی گئی تھی۔ چنانچہ آپ کی خلافت میں جہاں اور شعبہ ہائے زندگی میں ترقی ہوئی وہاں علمی سرگرمیوں میں بھی اچھی خاصی ترقی ہوئی۔

شاعری
شاعری اور خطابت تو عربوں کا فطری ملکہ اور فن تھا۔ خاص طور پر شاعری تو ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی اور اس فن میں دنیا کی کوئی قوم ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتی تھی۔ شیخین کے زمانہ میں اس کا رنگ قدرے پھیکا پڑ گیا لیکن اموی دور میں پھر اس مذاق میں چاشنی آگئی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خود سخن سنج تھے اور دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی ان کو اچھا خاصا مذاق ودیعت کیا گیا تھا۔ لہٰذا اس زمانہ میں اس فن کو کافی ترقی ہوئی ۔ جزیرہ ، فرزدق، اخطل وغیرہ شعراء جنھوں نے اسلامی شاعری کو چار چاند لگائے، اسی زمانہ کی پیداوار ہیں۔ سیاسی حالات کے اس نشیب و فراز سے شاعری کو اور بھی ترقی ملی کیونکہ شیعہ اور خارجی جماعتوں کے پراپیگنڈے کا واحد ذریعہ شاعری تھا اور شعراء کی زبان شمشیر براں سے کسی قدر کم نہ تھی، لہٰذا مقابلہ میں بھی اس فن کو خوبخود ترقی کے مواقع فراہم ہو گئے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے شعر کو بے ہودگی اور قبائلی ہجو کی بجائے نیک کاموں کی رغبت دلانے کا ذریعہ بنایا۔ شاعری میں آپ کا مذاق نہایت عمدہ اور سلجھا ہوا تھا۔ آپ کے والد اور والدہ بھی شاعر تھے۔ آپ نے نظم و نثر کی طرف خاص توجہ فرمائی، چنانچہ ایک مرتبہ عبد الرحمن بن الحکم بن ابی العاص کو نصیحت فرمائی کہ شاعری کو ایسی تہذیب کا ذریعہ مت بناؤ جو شریف عورتوں کو عریاں کر دے اور ہجو سے کسی شریف کی پگڑی اچھالنے یا ذلیل کو مدح کے ذریعے بلند کرنے کی کوشش کریں۔

تفسیر و حدیث:

اس دور میں بڑے بڑے ائمہ تفسیر پیدا ہوئے ۔ جن کی بدولت تفسیری ذخیرہ میں معتد بہ اضافہ ہوا۔ ترجمان القرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کے ایک رفیق ابو حمزہ نے تفاسیر لکھیں ۔ اکثر بڑے بڑے علماء بیک وقت مفسر بھی ہوتے تھے اور محدث و فقیہ بھی تھے۔ اس دور میں حدیث و فقہ کی خاصی ترقی ہوئی۔

سیرت و مغازی:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں تدوین تاریخ و سیرت کا آغاز ہوا۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ،سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ ،وہب بن منبہ اور عبید بن شریہ اس دور کے قابل قدر سیرت نگار اور مؤرخ ہوئے ہیں۔ تدوین تاریخ پر آپ نے خاص توجہ فرمائی اور صفا ئے یمن سے عبید بن شریہ نامی ایک مؤرخ کو بلا کر تدوین تاریخ پر مامور کیا۔ اس کے اہتمام میں دو کتابیں مدون ہوئیں۔ ایک نثر کی’’کتاب الامثال‘‘ کے نام سے اور ایک تاریخ کی ’’اخبار الملوک واخبار الماضین‘‘ کے نام سے ۔

دار الترجمہ:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد حکومت میں ایک دار الترجمہ بھی قائم فرمایا۔ اس کی نگرانی پر ’’ابن آثال طبیب‘‘ کو مامور کرکے طب یونانی کی کتب کا عربی میں ترجمہ کرنے کا حکم دیا لیکن افسوس کہ زمانہ کی دست برد سے بچ کر ان میںئی

غرض کہ ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکومت ہر اعتبار سے کامل اور مثالی تھی۔ درج بالا تفصیل ان کے دور خلافت کی ایک معمولی جھلک ہے۔سیاست وحکومت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر کی بات تھی، آئین جہانبانی سے خوب واقف تھے۔ شام میں اپنے دور گورنری میں اور پھر بعد میں اپنے دور خلافت و امارت میں سلطنت اسلامیہ کی حدود وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ اسے مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اقدامات سے ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔

انھوں نے سلطنت کے باشندوں کی بہتری کے لیے بہت سے امور انجام دیے مثلاً دنیا میں سب سے پہلا اقامتی ہسپتال قائم کیا، اسلامی دور میں پہلی مرتبہ آپ رسانی کے لیے نہر کھدوائی،احکام پر مہر لگانے اور ان کی نقل محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا، تجارت کے فروغ کے لیے بین الاقوامی معاہدے کیے، بیت المال سے قرضے جاری کیے، جس سے تجارت و صنعت کو فروغ حاصل ہوا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور سے قبل خانہ کعبہ پر مسلسل غلاف چڑھائے جاتے تھے مگر انھوں نے پہلے غلاف اتار کر نیا غلاف چڑھانے کا حکم دیا۔ ڈاکخانوں کی تنظیم کی اور انھیں جدید خطوط پر استوار کیا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں سب سے پہلے منجنیق کا باقاعدہ استعمال ہوا، سرحدوں کی حفاظت کے لیے قدیم قلعوں کی مرمت کرائی اور نئے قلعے تعمیر کروا کر افواج اسلامیہ کو وہاں متعین کیا۔ پہلا اسلامی بحری بیڑا قائم کیا، جہاز سازی کے کارخانے قائم کیے۔ آپ کے دور میں خلافت میں باقاعدہ جہاد ہوتا رہا، بے شمار برّی اور بحری لڑائیاں ہوئیں اور مجاہدین اسلام نے حدود سلطنت کو اتنی وسعت دے دی کہ ایک ہی مرکز کے تحت نہ اس سے قبل اتنی وسعت ملی نہ بعد میں ۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ البدایہ میں آ پ کے دور خلافت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

الجہاد فی بلاد العدو قائم، وکلمۃ اللہ عالیۃ، والغنائم ترد الیہ من اطراف الارض، والمسلمون معہ فی راحۃ وعدل وصفح وعفو .

آپ کے دور میں جہاد کا سلسلہ قائم رہا، اللہ کا کلمہ بلند ہوتا رہا اور مال غنیمت سلطنت کے اطراف سے بیت المال میں آتا رہا، مسلمانوں نے راحت و آرام اور عدل و انصاف سے زندگی بسر کی۔

بشکریہ نقیب ختمِ نبوت ملتان

0 تبصرے: